Recents in Beach

عملیات کے اسباق

پہلا سبق دیا گیا ہے

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ.  ****************************  روحانی علم کے سیکھنے والے حضرات اس  گروپ کے چند اصولوں پر ایک نظر.  👇👇👇👇👇👇   اس گروپ کے چند اھم  قوانین پر ایک نظر کریں. اور ھر ممبر کو ان قوانین پر عمل کرنا  ضروری  ہے. یہ چار مہینے کا کورس رھیگا. ایک سو بیس دن۔ (120) دن آخر میں آپ کو خصوصی ٹرئیننگ حاصل کرنے اور روحانی چیزوں اور ھر قسم کے جادو اور شریر جنات اور انسان کے کرتوتوں  کی پہچان کرنے کیلئے اور ان کی دفع کا علم سیکھنے  ھماری خدمت میں چند دنوں کیلئے  آنا ھوگا. واٹس ایپ میں ھر چیز کی تعلیم نہیں دی جا سکتی.  اگر کوئی ممبر جان بوجھ کر گروپ کے قوانین کی خلاف ورزی کیا تو اس کو گروپ سے باھر کردیا جائیگا. پھر اپ یہ نہیں کہنا  کے ہمیں پتہ نہی  تھا. سب سے پہلے یہ ایک دینی مدرسہ کی طرح  ہے.   استاذ جو بھی سبق آپ کو دے نگے. اس کو یاد رکھیں استاد کی ھر بات آپ کیلئے بہت اہمیت رکھتی ہے.
(1) اس گروپ کے کسی بھی ممبر کو کسی بھی  قسم کی آڈیو یا ویڈیو یا کوئی بھی عنوان یا بیانات یا تحریر ڈالنے کی اجازت نہیں ھوگی.
( 2)کوئی بھی ممبر کسی پر کیچڑ نہ اچھالیں.
(3) کسی بھی عالم کے خلاف کوئی بات نہ کریں.
(4), اس گروپ میں ھر مسلم فرقہ کے لوگ شامل ہیں ایک دوسرے پر طعن نہ کریں اور کسی خاص فرقہ کو نشانہ نہ بنائیں اور گالیاں نہ دیں.
(5 ) ھر ایک سے اچھے معاملات رکھیں. اور اچھے اخلاق اپنے اندر پیدا کریں  اس کام کو سیکھنے کیلئے اچھے اخلاق کی شدید ضرورت ھے. اور صبر
( 6) اپنی زبان کو صاف رکھیں. اور ھر وقت اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرتے رہیں.
(7) اس گروپ میں کوئی ساتھی فضول بحث کرکے خود کا اور ھمارا قیمتی وقت ضائع نہ کریں.
(8) جس مقصد کیلئے ھم اس گروپ مںں شامل ہوئے ہیں اسی مقصد کو سامنے رکھتے ھوئے آخر وقت تک ثابت قدم رھیں.
(9) اگر کسی ساتھی سے آپ کو شکایت ھو تو ہمیں پرسنل مسیج کریں.
(10) ہمارے ھر درس کو دیہان سے پڑھ لیں اگر آپ کو ہماری بعض  باتیں سمجھ میں نہ آئیں تو ہمیں  کال کریں یا آڈیو مسیج کریں.
(11)  گروپ کے تمام قوانین پر سختی سے عمل کریں.
(۱۲) روحانی علم سیکھنے کا  مقصد یہ ہے کہ ہمیں امت کی خدمت کرنا ہے۔ اور معاشرے کی تباہی سے اور امت کو  گمراہ لوگوں سے بچانا ہے۔ ****************************   گروپ کے ایڈمن؛
اور روحانی استاد ؛
حکیم حافظ حبیب الرحمان شاہ بھٹکلی۔ بینگلور۔ کرناٹک۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم. روحانی علم  سیکھنے کے چند اصول اور سبق.  ھمارے اس تحریر کو بار بار پڑھیں.  سبق نمبر. (1). *************************** پہلے وضائف کرنیکی جگہ مقرر کریں. اور اس جگہ پر چھوٹے بچوں کو جانے نہ دیں. اس لئے کے چھوٹے بچوں کو  پیشاب اور قضائے حاجت کا  پتہ نہی لگتا. صفائی کا مسلہ ھوگا.  روحانی علم سیکھنے کیلئے  سبق کو اچھی طرح یاد رکھیں.جن چیزوں سے بچنے کی بات آتی ہے تو اس پر مکمل عمل کریں.  ******I**************************   سبق نمبر. (2) وضائف پڑھنے والا شراب یا کسی نشہ کرنے والی آشیاء اور سیگریٹ. بیڑی اور تمباکو. اور پان. کا بلکل استعمال نہ کریں. آگر آپ ان چیزوں کے عادی ھو تو فورن ترک کردیں. ورنہ اس عمل کو نہ کریں. اور وضائف کرنے سے پہلے کچا پیاس. ادرک لہسن  نہ کھائیں. اور وضائف سے پہلے مسواک کریں. اور دوران وضائف کسی سے بات نہ کریں. اپنا موبائل کا آواز بند رکھیں. اور جس جگہ ذکر پڑھ رھے ھو اس کمرے میِں ٹی وی بھی نہ ھو. اور کمرے میں کسی قسم کی تصویریں نہ ھو. ورنہ فرشتے نہی آئینگے. اور عمل قبول نہیں ھوگا.  پانچ وقت کی نماز تکبیر اولی کے ساتھ اور سنتوں نمازوں کا اہتمام کریں. تہجد نماز اور سنت  روزوں کی  پابند کرہی.  اور ہر گناہ سے بچیں. اپنے سے بڑوں اور ماں باپ ک عزت کریں. کسی کا دل نہ ناراض نہ کریں. کسی جآںوروں کو نہ ماریں. خاص کر سانپ کو . اپنے  غسہ کو قابو کرلیں.-********************************     سبق نمبر . (3)   اس علم کو سیکھنے سے پہلے استاد سے ایک عہد کریں. کے ھم یہ علم امت کو نفع دینے اور امت کی خدمت کے مقصد سے سیکھ رہے ہیں. ھم اس علم سے کسی انسان کو کسی قسم کا نقصان نہیں دینگے. اور کسی پر ظلم نہیں کرینگے. اور وہ کام بھی نہیں کرینگے جس کام سے اللہ اور رسول ھم سے ناراض ھو. اور ھم اس عمل کو کسی مؤکل یا جنات یا ھمزات کو حاضر کرنے اور ان سے سوال کر کے ان سے مدد لینے کیلئے نہیں پڑھینگے۔ صرف اللہ اور رسول کو راضی کرنے  کیلئے اس  عمل کو کرتے ہیں ائے اللہ ھمیں کامیابی عطا فرما۔ اور ھماری زبان پر اور ھمارے ھر نیک کام پر تاثر عطا فرما۔ اور ہماری  مراد کو پورا کر. اور ہر قسم کی پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کردے.  ************************ *** 

سبق نمبر (4)  اللہ کا ذکر کرتے وقت صفائی کا خاص خیال رکھیں بعض اوقات میں بھی صفائی کا خاص خیال رکھیں اس کام کو سیکھنے کیلئے صفائی شرط ہے.( انظافۃ نصف الایمان.) جگہ کا صاف ھونا لباس کا صاف ھونا. اور وضوء کا پانی صاف ھونا. اور دل ودماغ کی صفائی. وغیرہ.  بہتر یہ ھیکے وضائف کے وقت ایک یا دو جوڑا کپڑا الگ رکھیں. اور عمل کے وقت اس کو پہن لیں. اور لباس سفید ھو تو  بہتر ھے.   ---------------------------------------------- داب نمبر (5) وضائف کیلئےد ایک ایسا وقت کا انتخاب کریں. کے اس وقت آپ کو کوئی مصروفیات نہ ھو پورے کام سے فارغ ھو کر عمل کو بیٹیں. تا کے آپ کو کوئی پریشانی نہ بھوں. سب سے اچھا وقت عشاء کی نماز کے بعد کا ھے. سارے کام سے فارغ ھو کر بیٹیں. آگر تہجد کی نماز پڑے تو اور بھی اچھی بات ھے. آپ کے عمل میں اور تاثیر زیادہ ھوگی. اور اللہ کی قربت حاصل ھوگی آیسے لوگ اولیاء اللہ بن سکتے ہیں. اس زمانہ میں بھی اولیاء اللہ موجود ہے. مگر وہ اپنے کو ظاھر نہیں کرتے. ھم ھنے ایسے بہت سے آولیاءاللہ کو دیکے ہیں. اور ان کی صحبت میں کئی سال رمضان المبارک کا آخیری دس دن کا اعتکاف بھی کیا ہے. یہ لوگ  اللہ کے نیک بندے ھونے کی دلیل ھے. اور آج کل آیسے لوگ ھے جو اپنے کو آولیاءاللہ کہے رھیں. لوگ ان کے پاؤں دبا رہے ہیں. ان کو سجدے کررھے ھیں. ھم نے اپنے انکھوں سے ایسے شیطانوں کو دیکھ چکے ھیں. یہ جاھل لوگ جن کو دین کا علم نہی ہے وہ ان کو بہت کچھ مانتے ھیں. یہ اولیاءاللہ نہی ھوسکتے یہ شیطان ہے. اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتے ہیں. اور یہ لوگ  مرنے سے پہلے ھی اپنی قبر کھود کر رکھ دیا کرتے اور اس کو فلان درگاہ کا نام دے رکھا ہے. ھم آپ کو یہ بات یہاں اس لئے بتانا ضروری سمجھتے ھیں. آپ جو عمل کررھے ھیں. آپ کے عمل کی تاثیر کو ختم کرنے کیلئے  شیطان آپ کو انسان کی روپ میں یا اولیاءاللہ کی روپ لیکر بشارت میں آئینگے اور آپ کو گمراہ کرنیکی ہرممکن کوشش کرئینگے. تا کے آپ اللہ سے یہ علم حاصل نہ  کر سکیں. *** وضائف کیلئے ایک وقت متعین کریں.  روزانہ اسی وقت میں وضائف پڑھیِں. کیونکے جس جگہ آپ ذکر کرنے کا اہتمام کرئینگے وہ جگہ زمین سے لیکر اسمان تک ذکر کرنے کی وجہ سے روشن وچمکدار ھوتی ھے. اور کوئی بھی خبیث چیزیں اس جگہ نہی ءآ سکتی. اور ذکر کیلئے جگہ کے ساتھ ساتھ وقت بھی مقرر کریں. جب آپ ذکر کرنا شروع کرئینگے. تو چند دنوں میں آللہ کے طرف سے اس جگہ اور اسی وقت میں فرشتوں کی آمد شروع ھوجائیگی. اور فرشتے آپ کا ذکر سن کر خوش ھونگے. آپ کی دعا پر فرشتے آمین کہےنگے اور اس جگہ جہاں آپ ذکر کو بیٹھ جائینگے فرشتوں کی چہل پہل شروع ھو جائےگی. فرشتوِں کو آتے ھوئے  دیکھ کر نیک جنات بھی پہنچ جائینگے. جب بندہ  اللہ کا ذکر پڑھتے ھوئے یہ جنات دیکھ ینگے تو  یہ جنات بھی خوش ھوجائینگے. آپ کو یہ لوگ نظر نہی آتے ہیں. اور یہ اللہ کے طرف سے ہے. اور یہ حںآٹ اللہ کے حکم سے آتے ہیں. یہ سب دیکھ کر شیطان بھی وھاں پہنچ جاتا ھے. شیطان کو یہ سب  دیکھ کر غصہ آتا ھے. اور اس کے بدن پر آگ لگتی ھے. اور کانٹے چوبتے ہیں. اس لئے اللہ کا فرمان ھے شیطان تمھارا کھلا دشمن ھے. شیطان آپ کو رکاوٹ ڈالنے کی ھر ممکن کوشش کرےگا. فرشتوں کو دیکھ کر شیطان وھاں سے بھاگ جائیگا.. اس لئے ذکر کرتے وقت اچھی اور عمدہ  خوشبو لگایا کریں.  فرشتوں کو خوشبو پسند ھے اور خوشبو فرشتوں کی خوراک ھے.  مؤمن اور اچھے جنات بھی اچھی خوشبو کو پسند کرتے ہیں.  اور گندے جنات بدبو پسند کرتے ہیں. شیطان کو خوشبو سے بہت زیادہ تکلیف ھوتی ھے. اس لئے آداب نمبر ۴ میں عمل کرنے سے پہلے دعا کا اہتمام کرنے اور خوشبو لگانے  کی ترغیب دلائی گئی ھے.
******************************    سبق نمبر (6 ) آپ جو بھی اللہ کا ذکر یا وضائف پڑھینگے صرف اللہ کی عبادت کرنے کی نیت سے پڑھنا لہے. کسی جنات یا مؤکل یا ھمزات کو حاضر کرنے کی نیت سے نہ پڑیں. ورنہ اسلام سے خارج ھوجاؤگے. اور اللہ سے لو لگا کر پڑیں. پوری توجہ کے ساتھ پڑیں. شرک والے کام اور شرک کرنے والی باتوں سے اور لایعنی باتوں اور لا یعنی کاموں سے اور غیبت سے بچیں. جھوٹ اور دھوک بازی سے اپنے کو بچائیں. یہ چیزیں عبادات میں سستی پیدا کرتی ھے اور عمل کو کمزور بناتی ھے. دوران ذکر کوئی مخلوق انسان یا جنات یا جانوروں  کی روپ میں.حاضر ھو تو ان سے کلام نہ کریں. ھو سکتا ہے کسی دوست کی شکل میں  کسی کام کے بہانے آپ کو بات کرنے کی کوشش  کرئیگا. یہ آپ کے عمل کو توڑنے کی کوشش ھے. بعض آوقات پیشاب یا قضائے حاجت کی نوبت بھی  آتی ھے. ھر ممکن ان حالات پر قابو پانے کی کوشش کریں. برداشت نہ ھونے کی سورت میں پیشاب سے فارغ ھو کر بنا کسی سے بات کئے دوبارہ وضوء کرکے وضائف کو پورا کریں. بعض اوقات بخار بھی آتا ھے. یا شیطانی وساوس آنی شروع ھوتی ہے. کبھی کبار پورا بدن درد بھی کرنے لگتا ہے.  ایسا بھی ھوتا ھے کے اس عمل کو ہڑھنا چوڑ دو. اس سے کچھ فائدہ نہیں ھوگا. اس طریقے کی پریشانی ھوگی تو ثابت قدم رھنا. یہ شیطان کی رکاوٹ ہے. اور چند دن گزرنے کے بعد آپ کی یہ کیفیت نہیں رھیگی. شروعات کے چند دن شیطان پیچھے لگے گا. یہ اللہ کا ذکر ہے. شیطان آپ کو ھر ممکن روکنے کی کوشش کرئیگا. ان باتوِں کو یاد رکھیں. اور ان باتوں کو زھین میں رکھیں.  ************************** سبق نمبر (7) اگر آپ کو کوئی عامل مل جائینگے آپ جو ورد کررہے ہیں عامل حضرات کو نہیں بتانا ورنہ وہ آپ کو یہ علم حاصل کرنے نہیں دے نگے اور آپ کی زبان پر  بندش ڈال دینگے. یہ عمل وہ عامل نہیں کرسکتے جن کے عقائد شروع سے ہی  خراب ہے. آپ کو قرآن وحدیث کی دلیل دیکر آپ کو علم حاصل کرنے کو روک دے نگے.  آپ کو ذکر پڑھنے میں سستی اور کاہلی پیدا ہوگی. اکثر عامل حضرات اولیاءاللہ کی اور فرشتوں کے نام کا ذکر اور ھمزات پر قبضہ کرنے ک نیت سے وضائف پڑھتے ھیں. اور ان کے نام پر روزہ رکھتے ہیں اور ان کے نام سے جانور ذبح کرتے ہے. اور ان کے نام کی تعویز بنا کر دیتے ہے. اور یہ عامل  کہتے ھیں کے آولیاءاللہ کا نام کا ذکر پڑھنے سے اولیاءاللہ کا فیض حاصل ھوتا ھے. اور فرشتوں کے نام کا ذکر پڑھنے سے فرشتے حاضر ھوتے ہیں. اور وہ ھمارے غلام بنتے ہیں. اور وہ ھماری مدد کرتے ہیں. اور ھم ان کو جو حکم دئینگے وہ ھمارا کام کر کے دیتے ہیں.  یہ بلکل غلط بات ھے. یہ شیطان کا طریقہ ھے. آولیاء اللہ کے نام کا ذکر پڑھنے سے ان کے نام سے شیطان حاضر ھوتے ہیں. اور فرشتوں کے نام کا ذکر کرنے سے فرشتوں کا نام لیکر شیطان حاضر ھوتے ہیں.  اور یہ لوگ سمجھتے  ہیکے یہی  اولیاءاللہ کے مؤکل ہے. اور یہ شیطان کبھی فرشتوِں کے نام سے حاضر ھوتے ہیں. اور کبھی ھم فلان اولیاءاللہ کے خادم ہیں. اللہ نے ھمیں تمھاری مدد کرنے کیلئے بیجا ھے. اور یہ عامل کے بدن میں حاضر ھوتے ہے. اور بعض آوقات عورتوں کے اور بچوں کے بدن میں یہ شیطان اولیاءاللہ کا نام لیکر حاضر ھوتے ہیں. اور یہ شیطان ی کا شیر ار لاکھوں حسن حسین کی سواری کے نام پر اور پنجہ کے نام سے  امت کو گمراہ کر رکھا ہے. اور یہ شیطان عاملوں کو گمراہ کرتے ہیں. عامل ان کی باتوں کو سچ سمجھ کر ان سے سوالات کرتے ہیں. اور ان سے کام لیتے ہیں. شروع میں یہ جنات قرآن کی آیتیں پڑھنے دیتے ہیں. پھر آہستہ آہیستہ ان کو گمراھی کے طرف لے جاتے ہیں. بعض عامل ِحضرات اپنے پاس آئے ھوئے لوگوں کو قرآنی آیتیں دیتے ھیں.  قرآں میں تو شفاء ہے ھی. مریض  کو شفاء بھی ھوجاتا ھے. یہ قرآن کی برکت سے کام ھوتا ہے. قرآن کی ھر آیتیوں کو اللہ پر یقین کر کے پڑھینگے تو بڑے سے بڑا مشکل کام انشاءاللہ آسان ھوجائیگا. اس میں کچھ شک نہی. لوگ سمجھتے ھیں کے فلان اولیاء سے اور ان کی دعا سے ھمارا کام ھوگیا ہے. اور یہ عامل حضرات یہاں تک کہتے ھیں. کے نعوذب اللہ آولیاءاللہ کے دربار میں جانے سے وہ ھمارا بیڑا پار کرتے ھیں. اس لئے فلاں درگاہ جاؤ آپ کا کام ھوجائٰیگا. اور ان کو  ھمارا سلام بھی پیش کرنا. ان عاملوں کے عقیدے ہی غلط ھے. تو امت کو وہ کیا دعوت دےنگے. امت کا بہت بڑا طبقہ  ان کی گمراھی کی باتوں میں آکر سالوں سے درگاہ کا چکر کاٹ رہے ہیں. یہ عامل حضرات خود اپنے ھی گھر کے مسائل اور پریشانیوں کو  حل نہیں کر سکتے. وہ دوسروں کی پریشانی کیسے حل کرئینگے. جو لوگ ان عاملوں کے کہنے پر درگاہ جارہے ہیں. خود کو آرام نہیں ھوا پہر ھر مہینہ اپنی سیہلیوں اور آڑوس پڑوس کی خواتین کو جھوٹ بات بتا کر ھمارا بہت بڑا کام ھوگیا. فلان آولیاءاللہ کے دربار سے آپ بھی آؤ نا آپ بھی سالوں سے پریشان ہیں. اولیاءاللہ کا نظر وکرم ھوجائیگا. یہ سارے کام  شرک ھے. یہ لوگ ان کی  شیطانی بہکاوے میں آجاتے ہیں. اور یہ جاہل دین سے دور عورتیں بھی ان کی جال میں پھنس جاتے ھیں. اس طرح  یہ لوگ سینکڑوں عورتوں کو ھر ماہ اپنے ساتھ درگاہ لے جاتے. اور وھاں پر جاکر گمراہ ھوجاتے ھیں. خود بھی گمراہ ھوگئے اور دوسرے
مسلمان بہنوں کو بھی گمراہی میں ڈالتے ہیں. ھمارے مسلم بھائی اپنی بیوی اور بہنوں کی باتوں اور اپنے دوستوں کی باتوں میں آجاتے ہے اور وہ بھی گمراہ ھوجاتے ھیں. درگاہ کا مجاور آئے ھوئے پریشان لوگوں کو مزار کا چکر کاٹنے کو کہتا ھے. اور مزار کو صاف کیا ھوا پانی تبروک کے نام پر لوگوں کو پلاتا ہے.  اس طرح ھماری ماں بہنوں کے بدن میں جادو کے خبیث ڈال دیا جاتا ھے. یہ سارے شیطانی فریب ھے قرآن پاک میں اللہ فرماتا ھے. شیطان اللہ سے وعدہ لیا ھے کے مجھے محلت دے ھم تیرے بندوں کو ایسے گمراہ کرئینگے کے تیرے بندے ھمارے فریب میں گمراہ  ہو جائینگے اور ھم ان کو تیری عبادات سے دھر کرئینگے. آج امت کا بہت بڑا طبقہ شیطانی جال میں پھنس چکا ھے اور اللہ سے مانگنے کے بجائے غیرواللہ سے مدد مانگ رہا ہے. اور شرک کرنے میں مبتلا ھوگیا ہے. ان کو سمجھانے والا کوئی نہں.  آج لاعلاج بیماریاں عام ہے اور جہالت  انتہا پر پہنچ چکی ہے اسی لئے امت پپریشان ہیں. اور اللہ کی مدد اور رحمت الہی سے محروم ہے.  یہ اسی کا ایک حصہ ھے. بہت کم لوگ اس کو جانتے ہیں. یہاں پر شیطان ھمارا ایمان خراب کرتا ہے. عامل کہےگا آپکا کام ھونے پر ایک بار پھر آنا ھے. چار اماوس  یا سات آماواس انا ھے. اور ایک بھی آماواس  چوٹ نہ جانا. ابھی توڑا کام باقی ھے.  جب دوسرے بار مریض اس عامل کے پاس جائیگا تو وہ جنات کہےگا. تمہاری مراد پوری ھوگئی ھے اب تم فلان درگاہ میں جاکر فاتحہ دے کر اور ایک چادر چڑا لو اور کچھ چیزیں دربار میں رکھ کر اسکو  چند دن استعمال کرو. اور یہ جاھل مرد اور عورتیں ان کی باتوں میں آکر گمراہ ھوجاتے ھیں. آپ کو یقین نہیں آتا تو  درگاہ میں جاکر دیکھیں. ھم  کسی کے کہنے پر اس  بات کو نہی لکھا ھے. ھم خود ان درگاؤں پر جاکر دیکھا ھے. ھماری ماں ,بہنیں درگاہ پر کیسے کیسے شرک اور بدعات کا کام کررہے ہے. اللہ ھماری ماں بہنوں کو ھدایت دے. یہ کام ان عامل کے کہنے سے کرتے ھیں اور یہ وہ عامل ھے جو آولیاءاللہ کا ذکر پڑھ کر عامل بنے ھیں. اور یہ لوگ آپ کو زیادہ تر درگاؤں میں ملینگے. شیطان نے ان کو گمراہ کر رکھا ہے. یہ لوگ کسی کی نہی سنتے جب آپ ان سے بحث کرئینگے تو آپ کو یہ لوگ قرآن کی آیتیں  پڑھ کر سنائینگے اور اس کی تفسیر غلط بتائینگے. یہ جاھل لوگ اس عامل کو بہت بڑا مولانا  سمجھنے لگتے ہیں. یہ بہت بڑا عالم دین ہے. آج امت پر جو مصیبت اور پریشانی آرھی ہے  ھمارے ھی برے اعمال کا نتیجہ ہے. اور جو لوگ  اللہ کو چوڑ کر غیرواللہ کو پکارتے ہے. اور اولیاءاللہ کے مزاروں میں جا کر ان سے فریاد کرتے ہے. ائے فلان ھماری بات کو اللہ تک پہنچادو. اپ اللہ کے ولی ہے آپ کی بات اللہ سنتا ہے. یہ مشرک کا کام ہے. مسلمانوں کا نہیں. اس کام میں  ان مزار میں آرام کرنے والے بزرگ کی کوئی غلطی یا ان کی گناہ نہیں ہے. ان کو یہ سب  کچھ پتہ ہی نہیں ہے. یہ لوگ خود آپنی قبروں میں پریشان ہیں. کون اللہ کے بندوں کو سمجھائیگا ان کو کہنے والا کوئی نہیں ھے. *** شیطان کا فریب  دیکیئے. شیطان ان آولیاءاللہ کی شکل لیکر عاملوں کی اور بعض لوگوں  کے بشارت میں آتے ہیں. اور یہ لوگ ان بشارت کو سچ سمجھتے ہے. اور کہتے ہے فلاں اولیاءاللہ ھمارے بشارت میں آئے تھے آپنے دربار میں ہمیں آنے کی دعوت دیئے ہے. اور جب یہ حضرات کسی عامل یا ان کے ماننے والے علماء سے اس بشارت کا ذکر کرتے ہے  تو یہ عامل کہتے ہیکے تم بڑے خوش نصیب ھو تم کو   فلان دربار سے بلاوہ آیا ھے. جلدی چلے جاؤ اس طرح یہ شیطان اللہ کے بندوں کو گمراہ  کرتے ہے. قرآن  اللہ کی کتاب ھے. اور اللہ کا فرمان حق ھے. اور اللہ کی ھر بات سچی ھے ( ذالک الکتاب لاریب فیھ ھدی للمتقین) قرآن میں اللہ خود  کہتا ہے. ھمیں کسی اور کی ضرورت نہیں. آکر آپ اللہ کے نیک بندوں ئآ  اولیاءاللہ کا فیض حاصل کرنا ہے اس کا ایک بہترین طریقہ یہ ھے. ناشرک ھوگا نہ اسلام سے خارج ھونگے. وہ یہ ھے. اولیاءاللہ کی زندگی کے واْقعات کو پڑحیں. اور ان کے نقش قدم پر چلیں. یہ وہ الیاءاللہ ہے جن کا ذکر قرآن  میں ایا ہے. آج کل کے مزار بنے ہے یہ شیطان ہیں. یہ امت کو گمراہ کررہے ہیں. یہ مزار نہیں یہ تجارت کے آڈے ہے. ان مزاروں سے ان کے چولے جلتے ہیں. آگر کو اولیاءآلصالحین کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو روزانہ قرآن اور ذکر پڑھ کر اولیاء الصالحین کو یے سالے ثواب کریں. اور ان کے نام سے غریبوں کو کھانا کھلائیں. یا کپڑا سلائی کرکے ان کے نام سے غریبوں کو دیں. اس خیر کے کام سے اولیاء صالیحین کی دعا میں آپ کا حصہ شامل ھوگا. اور فرشتے  بندہ کا نام لیکر آولیاء لصالحین کو ھدیہ پیش کریں.فرشتے  ھدیہ دیبے  والے کا نام لیکر کے فلاں نے آپ کو ھدیہ پیش کیا ھے. اولیاء الصالحین کے زبان سے  دعا نکلتی ہے. اور فرشتے ان کی دعا پر آمین کہتے ہیں. اور  جب اولیاء لصالحین اس وقت دنیا میں باحیات تھے اس وقت اولیاء الصالحین نے قیامت تک آنیوالے امت محمدی کیلئے دعا کئے ھیں. ان دعاؤں  میں آپ کا حصہ شامل ھوجاتا ھے. فیض کے معنی ھیں آولیاء الصالحین کی روح کا خوش ھونا. اور ان کے زبان سے دعا کا نکلنا.  آپ کو ان کا فیض بھی عطاء ھوگا واللہ اعلم.. مؤمن وھ ھے .صرف اللہ کی عبادت کرتا ھے اور ھر ہریشانی اور مصیبت آنے پر  اللہ کو یاد کرتا ھے. اور اللہ سے مانگتا ھے. مخلوق کی ذآت  سے فائدہ نہ ھونیکا یقین اور اللہ کی ذات سے سب کچھ ھونیکا یقین  ھمارے دل میں ھو. اس پر ھمارا ایمان ھونا چاھیئے. وھی سچا اور کامل مسلمان ھے. ان باتوں کو  بتانا ھمارا فرض ہے تا کے ھم  شرک کے کام سے اور شرکیہ عمل اور باتوں سے بچیں کل قیامت کے دن ھمیں رسواء نہ ھونے پائے. اللہ مجھے بھی اور آپ کو بھی دین اسلام پر ثابت قدم رکجے. اور ایمان پر ھمارا خاتمہ ہو. آمین ****-******************************-- سبق نمبر(8)  روحانی علم سیکھنے کیلئے عقائد کا درست ھونا بہت ضروری ھے. ھم جو علم سیکھ رہے ہیں.  یہ علم کامل ہے. اور اللہ سے مانگ کر ھم یہ علم لے رہے ہیں. یہ علم سیکھنے کیلئے اللہ ک معرفت اور تقوی ھمارے اندر لانے کیلئے اپ کو مشک کرایا جارھا ہے. اور آپ کو اللہ سے ملایا جارھا ہے. اور اس کام کو سیکھنے  کیلئے. ھمیں اللہ کی عبادت کرنا ہے. اور آخیر وقت تک جب تک ھمارے بدن میں روح رہیگی ہمیں اس پر ثابت قدم  رھنا ہے چاھے ھماری گڑدن کیوں نہ کٹ جائے. یہ اللہ والوں کی جماعت ہے. اپ جو علم سیکھ رہے ہیں. یہ وہ عامل نہیں ہے. جو کتابوں میں ملتا ہے.یہ عمل اللہ والوں کا ہے اس علم کو سیکھنے کے بعد آپ کسی میت کو جائیں یا کسی مریض کی عیادت کو جائیں.  آپ کو کچھ تکلیف نہی ھوگا. اور آپ کو بڑے سے بڑا جادو کا خاتمہ کرنیکی طاقت ملےگی جو یہ عامل نہیں  کرسکتے. اور جب آپ پر کسی نے جادو کا حملہ کرےگا تو آپ خود آپنا علاج دفاع کرنے کی طاقت رکھینگے.
  *************************** (9)  وضائف پڑھتے وقت دل ودماغ کو صاف وپاک رکھیِں وںائف کے دوران جنسی خواھشات بھڑک جاتی ہے. دماغ میں گندے خیالآت آنے شروع ہوتے پیں. اور شہوت کا دباؤ  زیادہ ہوتا ہے اور دل گناہ کرنے پر مائل ہوتا ہے.  اگر کسی وقت گندے خیالات یا باھر کے خیالات دل ودماغ میں آجائے تو فورن اعوذب اللہ منY الشیطان الرجیم چند بار ہڑھیں. پھر وضائف کو آگے بڑائیں. اسی لئے  آکابر لوگ روحانی علم سیکنے والوں کو جلالی اور جمالی کرنے  کی ترغیب دیتے ہیں.  اس کا بیان آگلے سبق نمبر دس میں آرہا ہے. ذکر یا وضائف پڑھتے وقت توجہ اللہ پر  رھے  یوں سمجھیں اللہ ھمارے سامنے ہیں اور ھم اللہ سے ھم کلام گررہے یں. اور ھم اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کیلئے. یہ کام  کررھے ھیں. ****************************

Post a Comment

0 Comments

Search This Blog

Blog Archive

مضامین

Pages

Formulir Kontak

Name

Email *

Message *