خبردار! دوستوں اسبغول کوئی معمولی چیز نہیں جیسے
کے اسبغول کے فوائد ہیں ایسے ہی اسبغول کے
نقصانت بھی اسپغول کا چھلکا آپ کے لئے جان لیوا بھی ہو سکتا ہے، اسے استعمال کرنے
کا درست طریقہ اس کے فائدے اور نقصان کا
معلوم ہونا نہایت ضروری ہے ،ورنہ خامخواں ایک اچھی غذا کو زہر بنادینگے ،،
دور حاضر میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کے پیش نظر، لوگوں میں خود سے علاج
کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، ہر کوئی اپنا علاج خود سے ہی کرنا چاہتاہے ،ان
میں ایک سب سے زیادہ بڑھنے والا رجحان، چھلکا اسپغول کا بے دریغ استعمال ہے۔ اسبغول
عام طور پر ہر گھر کی ضرورت سمجھا جانے والا چھلکا اسپغول، فائدے کم اور نقصان کا
زیادہ حامل بھی ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ چھلکا اسپغول کو ہم نے ضرورت
نہیں بلکہ فیشن بنا لیا ہے جبکہ فائدے کے ساتھ ساتھ چھلکا اسپغول کے بے شمار
نقصانات ہیں۔
آج میں مختصراً اسبغول کے نقصانات کے بارے میں اور اسبغول کو استعمال کرنے کے درست طریقے آپ کی خدمت میں
پیش کروں گا۔ سب سے پہلے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ چھلکا اسپغول کن بیماریوں
یا کن حالات میں استعمال کرنا چاہئے۔ کلیسٹرول کی زیادتی میں، شدید قبض میں، معدہ
کی گرمی میں اور معدۃ کی تیزابیت بڑھ جانے میں اسپغول کا بھوسہ وقتاً فوقتاً
استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ان بیماریوں کا یہ علاج بھی نہیں ہے۔ بعض
لوگوں کے نزدیک موٹاپا، غذا کا ہضم نہ ہونا، پیٹ کا بڑھ جانا جیسے امراض میں
استعمال کرنا باعث اطمینان سمجھا جاتا ہے۔ اسپغول کے چھلکے کو متواتر استعمال کرنے
والا شخص بہت جلد جوڑوں کے درد، کمر درد اور معدے کے سست ہونے کا شکار ہو جاتا ہے،
معدے کے ٹشوز کمزور ہو جاتے ہیں، اٹھتے بیٹھتے جوڑوں میں سے آوازیں آنے لگتی ہیں
اور یہی شوق اس کو وقت سے پہلے بڑھاپے کا شکار کر دیتا ہے۔
مختلف بیماریوں کے لئے اسبغول کا استعمال کے مختلف طریقے ہیں۔ پیٹ
خراب ہو جائے، پیچش لگ جائیں تو ایک پاؤ دہی میں ایک چمچ اسپغول ڈال کر تھوڑی دیر
رکھنے کے بعد استعمال کیا جائے تو افاقہ ہوگا۔ قبض کی صورت میں رات سوتے وقت ایک
گلاس گرم دودھ میں ایک چمچ اسپغول یا صبح نہار ایک گلاس گرم پانی میں ایک چمچ ڈال
کر کچھ دیر کے بعد استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
اسپغول استعمال کرتے وقت ان امور کو مدنظر رکھیں
1۔ اسپغول کے چھلکے کو بغیر بھگوئے پھانکنے سے اجتناب کریں اگر اس کا ایک زرہ بھی آپ کی سانس کی نالی میں چلا گیا تو خدانخواستہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔
2۔ اسپغول کے چھلکے کو دیگر ادویات کے ساتھ یا اکیلے میں گرینڈ کر کے استعمال نہ کریں ورنہ یہ زہریلے اجزاء میں منتقل ہو سکتا ہے جو کہ صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔
3۔ اسپغول کو پانچ سے سات منٹ سے زیادہ نہیں بھگونا چاہئے اور پینے سے پہلے اچھی طرح پھینٹ لینا چاہئے۔
4۔ روزانہ استعمال نہ کریں۔
1۔ اسپغول کے چھلکے کو بغیر بھگوئے پھانکنے سے اجتناب کریں اگر اس کا ایک زرہ بھی آپ کی سانس کی نالی میں چلا گیا تو خدانخواستہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔
2۔ اسپغول کے چھلکے کو دیگر ادویات کے ساتھ یا اکیلے میں گرینڈ کر کے استعمال نہ کریں ورنہ یہ زہریلے اجزاء میں منتقل ہو سکتا ہے جو کہ صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔
3۔ اسپغول کو پانچ سے سات منٹ سے زیادہ نہیں بھگونا چاہئے اور پینے سے پہلے اچھی طرح پھینٹ لینا چاہئے۔
4۔ روزانہ استعمال نہ کریں۔
اسبغول کے سلسلہ میں اگر کوئی آپ کو معلومات
لیناہے تو آپ رابطہ کر سکتے ہیں

0 Comments