*سنا مکی کورونا وائرس سے حفاظت کی شافی تدبیر ہے*
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تحریروں کا شکار تو نہیں ہو گئے۔۔
علم طب کے فروغ و بقاء میں جہاں صاحبان علم وفاضل اطباء کا کردار یادگار اور ناقابل فراموش ہے، وہیں جڑی بوٹیوں کی افادیت و خصوصیات کے حوالے سے عطائیوں کی بےسروپا تحریروں سے بھی انکار ممکن نہیں انہی عطائیوں نے کاسہ طب میں سوراخ کرکے طب قدیم کو بدنام کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اس سے بدتر ہیں وہ لوگ جو ان کی تحریروں پر آنکھیں بند کر بھروسہ کرکے اپنے آپ کو تا حیات کبھی شفاء نا پانے والے مریضوں کی فہرست میں کھڑا کر لیتے ہیں اور پھر اپنی پوری زندگی جڑی بوٹیوں اور طب کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش میں لگے رہتے ہیں اور یہ سب ہوتا ہے جڑی بوٹیوں کے مفید اور مضر اثرات سے لا علمی رکھنے والے ان عطائیوں کی کاوشوں سے۔جو دن رات طب قدیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دھن میں لگے رہتے ہیں نہ تو ان کا طب سے کوئی تعلق ہے نہ ہی آپ کی صحت سے کوئی واسطہ پھر بھی لوگ دیوانے ہوکر ان کی تحریروں کو حرف آخر سمجھ لیتے ہیں۔
*محترم قارئین💗*
سنامکی سے کورونا وائرس کے خاتمے بارے کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اس وباء کے ختم ہونے کی مدت مقرر کیا جانا ممکن ہے۔آج کل سنامکی کے قہوے کے سوشل میڈیا پر بہت زور و شور سے چرچے ہیں۔جس میں کورونا میں مبتلا مریض سنامکی کا قہوہ پینے سے چند گھنٹوں یا دنوں میں صحت یاب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک ادنیٰ طبیب ہونے کے ناطے چند وضاحتیں ضروری سمجھتا ہوں تاکہ عوام الناس اپنی زندگی اور صحت سے کھلواڑ نہ کر سکیں اوربروقت سنبھل جائیں۔
*سنامکی* کو طبی دنیا میں صدیوں سے بطور مسہل یعنی اجابت بسہولت لانے کے لیے استعمال کروایا جاتا رہا ہے۔
یہ نوبتی بخاروں،وضع مفاصل،نقرس،عرق النساء، ضیق النفس،تنقیہ دماغ کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔
سنامکی انسانی جسم کے بڑھے ہوئے اخلاط بلغم، صفراء اور سودا کو چھانٹ کر بول وبراز کے راستے خارج کرنے والا قدرت کا ایک *لاثانی_تحفہ* ہے۔ یہ انتڑیوں میں رکاوٹ بننے والی آلائشوں کو بھی رقیق کرکے انہیں صاف کرتی ہے۔ زہریلے اور فاسد مادوں کو بدن سے نکال کر خون کو بھی مصفا کرتی ہے۔سنامکی پیٹ کے کیڑوں کو بھی ہلاک کرکے باہر نکال دیتی ہے۔
یہ غلبہ بلغم، سودا اور صفراء کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی علامات میں بھی افاقہ کا سبب بنتی ہے۔پھیپھڑوں میں جمی بلغم کو خارج کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
مسہل ہونے کے باعث سنامکی قبض کے مریضوں پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔ طبیعت ہلکی،چست اور متحرک ہوجاتی ہے۔
*لیکن ذرا رکیں🛑*
سنامکّی کے بےحد استعمال سے فوائد کے ساتھ ساتھ انسانی جسم میں کچھ نقصانات بھی مرتب ہوتے ہیں جو آپ کو عطائیوں کی ان تحریروں میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملینگے یہ بدن سے پانی کا اخراج پیٹ میں مروڑ، درد، کرب و متلی،قے،قوت مدافعت میں کمی اور آنتوں میں انفیکشن کی کیفیت بھی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
*اطباءکرام جانتے ہیں* اس وبائی دور میں قوت مدافعت کو بچا کر رکھنا اور بڑھاتے رہنا کتنا ضروری ہے میں نے کئی ایسے تندرست و توانا افراد کو کروناوائرس سے متاثر ہوتے دیکھا ہے جنہوں نے سنامکّی کے قہوے کا استعمال کرکے اپنی قوت مدافعت کو کھو دیا اور اس موذی مرض نے انہیں گرفتار کر لیا مزید پیٹ کی مروڑ سے تڑپتے بھی دیکھا ہے جو صرف اور صرف سنامکّی کے قہوے کے استعمال سے پیدا ہوئی تھی میرے تجربات سے جو گذرا آپ تک پہنچا دیا باقی اطباء حضرات ہی اس کی افادیت پر غوروفکر کر سکتے ہیں اس تحریر کو کئی روز سے لکھنے کی کوشش میں تھا ادھر ایک عزیز دوست *ایڈمن معالج گروپ وسیم_راؤ* صاحب کا بھی شکریہ جنہوں نے کئی مرتبہ فون کرکے سنامکّی کی افادیت پر کچھ لکھنے کو کہا لیکن وقت کی تنگی کی وجہ سے تاخیر کے لئے معذرت
آپ کا خیر اندیش

0 Comments