بے اولاد جوڑوں کے لیے خوش خبری، ان شاء اللہ اب آپ بے اولاد نہ رہیں گے!
ہمارے ایک قاری ذیشان احمد نے کراچی سے یہ انمول طبی نسخہ ارسال کیا ہے ، انھوں نے حکیم عبدالوحید سلیمانی صاحب کا یہ طبی نسخہ کسی طبی رسالے میں پڑھا تھا ، اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے اجزاء ترکیبی کوئی بھی بآسانی ملا کر یا کسی ماہر حکیم سے بنوا کر استعمال کر سکتا ہے ، ان کا دعوی ہے کہ اس نسخے سے کئی بے اولاد جوڑے اپنی گود ہری کر چکے ہیں ۔ عوام الناس کی بھلائی کے لیے یہ نسخہ پیش خدمت ہے :
‘’لاہور کے قریب گاﺅں سے ایک نوجوان اور ناتجربہ کار معالج دوسرے تیسرے ماہ میرے پاس آیا کرتے تھے۔ وہ اکثر ادویہ موقعہ بے موقعہ مریض کو استعمال کروا دیتے اور زیادہ تر سستی دوائیں مریضوں کو فروخت کرتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کم قیمت دوائیں وہ مریضوں کو بھی سستی دیتے یا یہاں سے ارزاں قیمت پر لے کر مہنگے داموں فروخت کرتے تھے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مجھ سے وہ ایک مہنگی دوا ’کشتہ طلا ہیرے والا‘ لے گئے۔ یہ دوا ہم نے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تیار کی ہے۔ مہنگی دوا ہونے کے باوجود اس نے مرض پر خاطرخواہ اثر نہ کیا‘ اس لیے میں اسے بہت کم استعمال کرواتا تھا۔ اعصابی اور دماغی کمزوری وغیرہ کے لیے اور بھی بہت سی دوائیں ہیں‘ اس لیے شاذہی کشتہ طلا ہیرے والا کے استعمال کی نوبت آتی۔ مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان طبیب دوسرے تیسرے دن اس کی ایک دو شیشیاں لے جاتے۔
ایک دفعہ میں تنہا بیٹھا تھا کہ وہی حکیم صاحب کشتہ لینے آ گئے۔ میں نے انہیں بٹھا لیا۔ چائے وائے پلائی اور ان سے پوچھا کہ آپ تو ایک چھوٹے سے گاﺅں میں مطب کرتے ہیں‘ کیا وہاں یہ مہنگی دوائی بک جاتی ہے؟ نیز یہ بھی پوچھا کہ وہ کس مرض کے لیے اسے استعمال کراتے ہیں؟
حکیم صاحب کہنے لگے ”جن مریضوں کے مادہ منویہ میں جراثیم نہیں ہوتے‘ انہیں استعمال کرواتا ہوں۔ اﷲ کے فضل سے تین ہفتوں میں صفر سے ستر فیصد تک پہنچ جاتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ انہیں اولادسے نواز دیتا ہے۔“
میں نے ان سے پوچھا کہ اس فائدے کا علم انہیں کیسے ہوا؟ یہ نسخہ کنزالمجربات میں درج ہے جو ذیابیطس اور اعصابی کمزوری دور کرنے کے لیے ہے مگر آپ جو فائدہ بتا رہے ہیں‘ وہ نہ تو کنزالمجربات میں ہے اور نہ ہی اس کے اجزاءمیں سے کسی کا یہ فائدہ میں نے کہیں اور پڑھا ہے۔
انھوں نے جو کچھ بتایا اس کی داستان انہی کی زبانی سنیے:
آج سے چند ماہ پہلے میں کشتہ طلا ہیرے والا آپ سے لے کر گیا تھا۔ مہنگی دوائی ہے لہٰذا اس کے استعمال کا کبھی موقعہ ہی نہ آیا۔ ایک دن پچپن چھپن سال کے ایک امیر کبیر بزرگ میرے پاس تشریف لائے۔ علاقہ کے بڑے زمیندار ہیں۔ مجھے کہنے لگے کہ ذیابیطس کا مریض ہوں‘ کوئی ایسی دوا دیں جس سے چند خوراک ہی میں یہ مرض دور ہو جائے۔ دوا کے مہنگا یا سستا ہونے سے غرض نہیں۔
میں نے اپنی دوائیوں پر نظر ڈالی‘ تو کشتہ طلا ہیرے والا ہی مجھے زیادہ مناسب معلوم ہوا۔ انھیں کہا کہ ہفتے میں ایک روز ایک کیپسول رات کو سوتے وقت دودھ سے لے لیں۔ بعد کو دو تین بار وہ پھر آئے کیونکہ انھیں کچھ افاقہ محسوس ہوا۔ لیکن پھر کافی عرصہ گزر گیا‘ وہ دوبارہ تشریف نہ لائے۔ میں بھی یہ واقعہ بھول گیا۔
ایک دن اچانک میرے پاس آئے۔ مٹھائی کا ڈبہ ان کے ہاتھ میں تھا۔ کہنے لگے ”مبارک ہو۔ یہ مٹھائی میں آپ کے لیے لایا ہوں۔“
میں نے حیران ہو کر پوچھا ”کیا ذیابیطس ٹھیک ہو گئی ہے؟“
کہنے لگے ”نہیں وہ تو اسی طرح ہے۔“
میں نے پوچھا ”پھر یہ مٹھائی کس خوشی میں؟“
کہا ”وہی تو میں آپ کو بتانے لگا ہوں۔ میری شادی کو تیس سال ہو گئے‘ اﷲ تعالیٰ نے کسی بچے بچی سے نہیں نوازا۔ طبی معاینہ کروایا تو پتا چلا کہ سرے سے جراثیم ہی نہیں ہیں۔ میں اور میری بیوی صبر شکر کر کے بیٹھ گئے اور اس بات سے مایوس ہو گئے کہ ہماری جائداد سنبھالنے والا کوئی وارث بھی ہو گا۔ پاکستان کے ہر بڑے طبیب، ڈاکٹر‘ سادھو‘ سنیاسی اور عامل کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیںآیا۔“
”اب میں آپ کے پاس ذیابیطس کی دوا لینے آیا تھا لیکن اﷲ نے کرم کیا اور میری بیوی حاملہ ہو گئی۔ میں نے اپنا طبی معاینہ کروایا تو حیرانی کی انتہا نہ رہی‘ ستر فیصد متحرک جراثیم موجود تھے۔“
کچھ عرصہ بعد وہ پھر تشریف لائے۔ بہت سے تحائف ان کے ساتھ تھے۔ اس دفعہ وہ بیٹے کی خوش خبری لے کر آئے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے بہت سے مریض میرے پاس بھیجے اور اﷲ نے سب کو بارآور کیا۔
٭٭

0 Comments