Recents in Beach

بانجھ پن کا ٹىسٹ اور معلومات

طبی باتیں....

مردانہ سپرم کی مقدار اور بانجھ پن کا ٹیسٹ ایک منٹ میں خود معلوم کریں،

لیبارٹری ٹیسٹ کے بغیر سو فیصد درست رزلٹ حاصل کرنے کا آزمودہ طریقہ جو کسی کتاب میں یا انٹرنیٹ پر نہیں ملے گا، بانجھ پن سے بچنے کے لئے میرے یہ مشورے آپ کے بہت کام آ سکتے ہیں

میں آپ کے ساتھ آج وہ تجربات اور مشاہدات شیئر کروں گا جو آپ کو طب کی کتابوں یا انٹرنیٹ پر نہیں ملیں گے اور مشکل طبی الفاظ اور اصلاحات استعمال کرنے کی بجائے یا صرف مرض کی علامتیں بیان کرنے کی بجائے آپ کو ایسی معلومات مہیا کروں گا جو آپ کو فائدہ پہنچا سکیں۔ مردوں میں بانچھ پن کن وجوہات کی بناء پر پیدا ہورہا ہے اوراس کےعلاج کا صحیح طریقہ کیا ہونا چاہئے یہ تمام معلومات اس آرٹیکل میں موجود ہیں۔

غیر مناسب طرز زندگی اور زہریلی خوراکوں کی وجہ سے انسانی جسم میں سپرم کی مقدار اور معیار میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ مردوں میں جراثیم کا کم ہونا یا بلکل نہ ہونا یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ میں اپنے تجربہ کی بنا پر یہ کہ سکتا ہوں کہ آنے والے دور میں سب سے بڑا مرض بانجھ پن کا ہوگا
، اس وقت جو نوجوان نسل پروان چڑھ رہی ہے ان کو شادی سے پہلے احتیاطاً بانجھ پن کا ٹیسٹ ضرور کروا لینا چاہئے تاکہ اگر انہیں علاج کی ضرورت ہو تو شادی سے پہلے ہی علاج کروا کر مکمل مردانہ صحت حاصل کر سکیں۔ اس آرٹیکل کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا نہیں بلکہ آپ کو اس خطرے سے آگاہ کرنا ہے جو ہمارے گھروں تک پہنچ گیا ہے اور آنے والے پانچ یا دس سالوں میں یہ مرض مزید شدت اختیار کر جائےگا۔

مردوں میں بانجھ پن کے اسباب

بچپن میں کن پیڑوں کا نکلنا، ٹائفائیڈ، موٹاپا، جہاز کا زیادہ سفر کرنا، چائے، فارمی مرغی، انڈوں اور تلی ہوئی اشیاء کا بے تحاشا استعمال، بغیر ضرورت کے زیادہ گرم تاثیر والی چیزوں مثلاً شہد اور سلاجیت کا استعمال، جوانی کی غلطیاں، الکحل وغیرہ، نشہ آور ادویات، سٹیرائیڈز اینٹی بائیوٹک ادویات، مردانہ صلاحیت میں اضافہ کے لئے کشتہ جات اور سلڈینا فل کا استعمال بھی بانجھ پن کا مرض پیدا کر سکتا ہے، ٹائٹ اںڈر ویئر، روزانہ گرم پانی سے غسل، ریڈی ایشن والی جگہوں پر ملازم پیشہ افراد یا گرم بھٹیوں کے آگے کام کرنے والے مزدور بھی بانجھ پن میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ جسم میں پیدا ہونے والا سوزاکی مادہ منی میں انفیکشن پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے جراثیم پیدا نہیں ہوتے یا پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں۔

سپرم کی مقدار اور بانجھ پن کے مرض کا گھر میں ہی خود ٹیسٹ کرنے کا آزمودہ طریقہ

شیشہ کے گلاس یا کسی بھی مٹی کے برتن میں اندازاً 120 ملی لیٹر پانی ڈال کر، اس میں دو چٹکی نمک حل کر لیں۔ اپنے سپرم کو اس نمک والے پانی میں ڈال دیں۔ اگر منی پانی میں بیٹھ جائے تو فکر کی کوئی بات نہیں اور اگریہ سپرم پانی پر تیر جائیں تو پھر آپ کو بانجھ کا مسئلہ ہے اورعلاج کی ضرورت ہے۔ بانجھ پن کا ٹیسٹ کرنے کے طریقے تو بہت ہیں لیکن میں نے آپ کو سب سے آسان طریقہ بتایا ہے۔ علاج سے پہلےآپ اپنی مزید تسلی کے لئے کسی بھی قریبی میڈیکل لیب سے اپنا سیمنز ٹیسٹ کراوا لیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا مرض کس سٹیج پر ہے۔

بانجھ پن کے بعض ایسے مریض جن کو ڈاکٹر لا علاج قرار دے دیتے ہیں الحمداللہ طب یونانی کے حکماء کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ دیسی جڑی بوٹیوں کے ذریعے ہر قسم کے بانجھ پن کے مریضوں کا علاج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
۔ بانجھ پن کی بیماری کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرنا یا پریشان ہونے کی بجائے اسے دوسری بیماریوں کی طرح ایک بیماری سمجھ کر کسی کوالیفائیڈ اور مستد معالج سے ہی علاج کروانا چاہئے۔

۔ کسی بھی نوعیت کے بانجھ پن کا شکار مریض اپنے علاج و راہنمائی کے لئے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

طالب دعا
Hakeem Ms shaikh

Post a Comment

0 Comments

Search This Blog

Blog Archive

مضامین

Pages

Formulir Kontak

Name

Email *

Message *